ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امت شاہ، روی شنکر پرساد اور کنی موجھی نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دیا

امت شاہ، روی شنکر پرساد اور کنی موجھی نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دیا

Thu, 30 May 2019 11:27:39    S.O. News Service

نئی دہلی،30/ مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا کا الیکشن جیتنے کے بعد بی جے پی صدر امت شاہ، مرکزی وزیر روی شنکر پرساد اور ڈی ایم کے لیڈر کنی موجھی نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دیا ہے۔خالی ہوئی ان راجیہ سبھا کی نشستوں پر اگلے 6 ماہ کے اندر انتخابات ہو سکتے ہیں۔اس بار بہت سے رکن اسمبلی بھی لوک سبھا انتخابات جیتے ہیں۔مانا جا رہا ہے کہ وہ بھی جلد ہی استعفی دے سکتے ہیں۔بی جے پی صدر امت شاہ نے گجرات کی گاندھی نگر سیٹ سے الیکشن لڑا اور 557014 ووٹوں سے جیت درج کی۔امت شاہ کو یہاں 894624 ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف کانگریس امیدوار سی جے چاوڑا کو 337610 ووٹ حاصل ہوئے۔شاہ پہلی بار لوک سبھا انتخابات لڑے تھے۔اس سے پہلے وہ راجیہ سبھا کے رکن تھے۔مرکزی وزیر روی شنکر پرساد بھی اپنا پہلا لوک سبھا انتخابات بہار کی پٹنہ صاہب سیٹ سے لڑے۔روی شنکر نے کانگریس کے شتروگھن سنہا کو 284657 ووٹوں سے ہرایا تھا۔روی شنکر پرساد کو 607506 ووٹ ملے، جبکہ کانگریس امیدوار شتروگھن سنہا کو 32849 ووٹ ملے تھے۔ابھی تک روی شنکر پرساد بہار ہی سے راجیہ سبھا کے رکن تھے۔ڈی ایم لیڈر متھویل کروناندھی کنی موجھی نے تمل ناڈو کی تھتھکڈی لوک سبھا سیٹ سے جیت درج کی ہے۔کنی موجھی نے بی جے پی کے تملسای سودرراجن کو 347209 ووٹوں سے شکست دی تھی۔کنی موجھی کو 563143 اور سودرراجن کو 215934 ووٹ ملے۔ابھی تک کنی موجھی تمل ناڈو سے راجیہ سبھا کی رکن تھیں۔راجیہ سبھا میں این ڈی اے اتحاد کی 100 نشستیں (شاہ اور روی شنکر کے استعفی دینے سے پہلے) ہیں جبکہ اکثریت کے لئے ضروری 123 کے اعداد و شمار حاصل کرنے کے لئے اگلے سال ہونے والے تین ریاستوں مہاراشٹر، ہریانہ اور جھارکھنڈ کے اسمبلی انتخابات کا انتظار کرنا پڑے گا۔اگلے سال تک راجیہ سبھا کی 81 نشستیں خالی ہو رہی ہیں،اگر ان تین ریاستوں میں بی جے پی اچھی کارکردگی کرتی ہے تو راجیہ سبھا میں وہ جادو ئی اعداد و شمار تک پہنچ سکتی ہے۔


Share: